Ghazals
غزلیں
چالیس غزلوں کا مجموعہ۔ کسی بھی غزل کو مکمل پڑھنے کے لیے اس پر کلک کریں۔
اس تلاش کے لیے کوئی غزل نہیں ملی
Ghazal · #1
اگرچہ تھے تو دونوں ہی غلط اللہ جانے ہے
←
Ghazal · #2
سوچ رکھا تھا میں نے بھی کیا کیا نہیں
←
Ghazal · #3
اس قدر جینا مرا مشکل نہ ہوتا
←
Ghazal · #4
تو جب بعدِ ترکِ تعلق بہت خوش دکھا تب لگا
←
Ghazal · #5
گاہ دریا رہے گاہ صحرا رہے
←
Ghazal · #6
میں پچھلی محبت کی شدت کا مارا ذرا احتیاط اب زیادہ کروں گا
←
Ghazal · #7
تو ہے جس کو یوں میسر, کون ہے
←
Ghazal · #8
بھلے نہ مل مگر مجھے تو یوں نہ دستیاب ہو
←
Ghazal · #9
سزا کے طور پر پائی ہے یہ بے چارگی میں نے
←
Ghazal · #10
سدا اس نے مجھے ہمت فراہم کی
←
Ghazal · #11
کم از کم چھوڑ دیتے مجھ کو میرے ساتھ
←
Ghazal · #12
تجھے ہو مبارک تری بے وفائی
←
Ghazal · #13
چاہتا ہوں ترے ہر ستم کی مکافات ہو
←
Ghazal · #14
سکون اس درجہ فرقت میں نہیں ہوتا
←
Ghazal · #15
خوش رہنا سیکھے انسان
←
Ghazal · #16
پہلے خود کو قابل کر
←
Ghazal · #17
اب تو دل بھی پوچھ رہا ہے
←
Ghazal · #18
چاہتے تھے نہ ہو یہ فساد آپ بھی
←
Ghazal · #19
قلبِ نا شاد کی اب ضرورت نہیں
←
Ghazal · #20
کوئی تو تھا تیرے جیسا بعض اوقات
←
Ghazal · #21
ایک خوش بو چمن چھوڑ کر کیا گئی
←
Ghazal · #22
میں رہا وہاں جہاں
←
Ghazal · #23
جتن کر کے بھی جب وہ شے ملی ہی نہیں
←
Ghazal · #24
سمجھ بیٹھا وہ آخر نا سمجھ مجھ کو
←
Ghazal · #25
میں تو اکثر تنہائی میں بیٹھے یہ سوچوں
←
Ghazal · #26
موسم تو پھر موسم ہے
←
Ghazal · #27
اگر مجھ کو تیرا سہارا نہ ہو
←
Ghazal · #28
نہ اس قدر تو دیکھ خود کو اشتباہ سے
←
Ghazal · #29
تعلق جب اس رب سے اچھا ہوا
←
Ghazal · #30
طویل راستہ ہے ہاتھ تھام لیجیے
←
Ghazal · #31
بہت ممکن ہے اب اس بار اداسی دیر تک جائے
←
Ghazal · #32
زندگی بھی کیسی چال چل رہی ہے
←
Ghazal · #33
ملال تھا ملی شکست تیری چال سے
←
Ghazal · #34
جب سے وہ میرے اپنے گیروں میں بٹ گئے
←
Ghazal · #35
دیکھ خود کو چھپ رہا تھا آئنہ
←
Ghazal · #36
اے دریا تو شامل کر لے اپنے لوگوں میں
←
Ghazal · #37
دیکھنے کو کیا ہے میرے سامنے
←
Ghazal · #38
جانے وہ کتنی آگے ہو
←
Ghazal · #39
ہمیں ہیں رفاقت میں جاں دیتے ہیں
←
Ghazal · #40
کبھی بھی ایسا تو ہونا نہ تھا مجھ کو
←